Home Pakistan سرائیکی لوگ کون ہیں . سرئیکی کلچر کے بارے میں ایسی...

سرائیکی لوگ کون ہیں . سرئیکی کلچر کے بارے میں ایسی تحریر جو آپ پہلے نہیں جانتے

53
0
SHARE

دنیا بھرمیں مختلف تخزیبوں کے لوگ آباد ہیں۔ اس طرح پاکستان بھی مختلف تحزیب اور اقوام کے اعتبار سے ایک وسیع ملک ہے۔ہر علاقے کی جغرافعی لحاذ سے زبان اور رسم و رواج الگ الگ ہیں۔ ساتھ ہی ان کے مخصوص لباس اور پہناوے ہوتے ہیں جو انھیں نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پہنچان بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ ان میں سرائیکی بولنے والوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے۔ سرائیکی بولنے والوں کی اپنی ایک ثقافت ہے۔ ان کے رہن سہن کے طریقوں سے لے کر لباس اور پہناوے تک اپنی ایک الگ پہنچان ہے۔ خاص کر سرائیکیوں کی پہنچان سرائیکی اجرک ہے۔اجرک سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے . لیکن سندھی اجرک اور سرائیکی اجرک میں فرق ہے ۔ سندھی اجرک میں سرخ کلیجی اور کالا رنگ شامل ہوتا ہے جبکہ سرائیکی اجرک میں نیلا اور فیروزی رنگ ہوتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 25ملین سے زیادہ لوگ سرائیکی بولتے ہیں۔جو جنوبی پنجاب ، جنوبی خیبر پختونخوا ، مشرقی بلوچستان ، شمالی سندھ ،مغربی ہندستان اور افغانستان میں موجود ہیں۔ ہندستان میں رہنے والے سرائیکیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ وہ سرائیکی ہیں جو تقسیم کے وقت ہندستان چلے گئے ۔ پاکستان میں سرائیکی لہجہ بولنے والوں کی مردم شماری پہلے مرتبہ 1981 میں کی گئی ۔ سرئیکی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے رشتے ناتے دراوڑی نسل سے ملتے ہیں۔ دراوڑی زبانیں دنیا کے ایک اہم خاندانی زبان ہے اس میں شامل زبانیں زیادہ تر جنوبی ہند میں بولی جاتی ہیں۔اس خاندان کی تقریبأ 73زبانیں مشہور ہیں جو جنوبی ہندستان ، سری لنکا ،پاکستان، نیپال ، بنگلہ دیش افغانستاناور ایران میں بولی جاتی ہیں۔سمجھا جاتا ہے کہ وادی سندھ کی تحزیب میں دراوڑی زبان بولی جاتی تھی۔ دراوڑی زبان بولنے والوں کو دراوڑ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دراوڑ اپنے زمانے کے مہذب قوموں میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے آ ج سے کئی سو سال پہلے زمین سے چاول ، گیہوں اور گنا اگانے کے ساتھ ساتھ روئی سے دھاگہ بنا کر کپڑا تیار کرنے کا راز معلوم کیا۔آ ثار قدیم کے محقیقین کے مطابق دراوڑی تحزیب کا زمانہ 2500 قبل مسیح اور بعض کے مطابق 1750 قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے ۔ بعض محقیقین سرائکی کو ایک الگ زبان قرار دیتے ہیں تاہم بعض لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ جن محقیقین کا اس سے اختلاف ہے ان کے مطابق وہ کہتے سرائیکی زبان بالکل پنجابی لہجے ماجھی سے ملتی ہیں۔ اسی لیے وہ سرائیکی کو پنجابی کا ایک لہجہ کہتے ہیں۔تاہم ان دونوں زبانوں کی اپنی ایک معیاری شکل ہے۔ دونوں میں ادب لکھا گیا ہے۔ سرائکی ادب کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ محقیقین کے مطابق سرائکی ادب کی تاریخ تقریبأ اڑھائی سال پرانی ہے۔سرائیکی کلچر کی ترویج کے لیے ہزاروں کتابیں سرائیکی اردو ،انگریزی اور دوسروں زبانوں میں میں لکھی گئی ہیں۔سرائیکی زبان کو سب سے زیادہ حروف تہجی رکھنے کا شرف حاصل ہے۔سرائیکی لوگ اپنے لیے علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔سرائیکی تحریک میں سب سے زیادہ نام تاج محمد گنگا کا ہے۔ جنھوں نے اپنی جدوجہد کا سفر سیاست سے شروع کیا۔ انھوں نے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت پاکستان سرائیکی پارٹی بنائی جس کا مقصدسرائیکیوں کے لیے اپنے الگ صوبے کا قیام تھا۔اس کے علاوہ ایک اور پارٹی سرائیکی ملت پارٹی پاکستان بھی بنائی گئی۔ اس وقت ممبر قومی اسمبلی جناب جمشید احمد دستی نے ایک اور پارٹی پاکستان عوامی راج کے نام سے بنائی۔یہ لوگ اس وقت سرائیکی صوبے کے قیام کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں