Home Pakistan روہینگیا مسلمانوں کی حفاظت کےلئے پاکستان آرمی کے جوان...

روہینگیا مسلمانوں کی حفاظت کےلئے پاکستان آرمی کے جوان برما جا رہے ہیں ِ. کیا یہ سچ ہے

75
0
SHARE

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تمام مسلمان ایک جسم کی ماند ہیں. جس طرح پاؤں پرکانٹا چھبنے پر درد پورے جسم میں محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان ایک دوسرے کا درد محسوس کرتے ہیں چاہے کہیں پہ بھی ہوں۔ آپ مسلمان دوستوں کی طرح میں بھی درد محسوس کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ پاکستان آرمی روہینگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے جاۓ۔ لیکن دوستو صرف خواہشات کے سہارے ہم اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکتے۔بلکہ ہمیں حقائق پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔

میانمار میں مسلمانوں کی حالت زاردنیا کے سامنے آنے کے ساتھ کچھ دنوں سےسوشل میڈیا پر لوگوں کا ایک خاص طبکے کی جانب سے لوگوں کا ایک ذہن بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان آرمی کیوں میانمار میں بدھ حکومت کے خلاف فوجی ایکشن نہیں لے رہی۔ اور اس کی آڑ میں پاکستان آرمی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے میانمار میں مسلمان مر رہے ہیں وہاں تو آرمی جا نہیں سکتی بس اپنے لوگوں کے خلاف آپرٰیشن کر رہی ہے۔ یعنی بظاہر تو میانمار کی مدد ظاہر کی جارہی ہے ۔ مگر اس کی آڑ لوگوں کے ذہنوں میں زہر ڈال رہی ہے۔
اب میرا سوال ہے کیا ترکی نے اپنی فوجیں میانمار بھیج دی ہیں۔ جس کی معاشیت پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈیفیس ٹکنالوجی میں بھی پاکستان سیے کہیں زیادہ ہے۔ جواب ہے نہہں۔ لیکن ترکی میں لوگ کیا اپنی آرمی کے خلاف اسے طرح کی مہم چلا رہے ہیں؟ جواب ہے نہیں۔ لیکن ہمارا ملک عجیب ہےاسی فوج کو گالیاں بکتے ہیں جس کے بغیر آپ ایک سیکنڈ سکون سے نہیں رہ سکتے۔ زلزلے ہوں سیلاب یا طوفانی بارشیں یا پھر شہروں میں خراب صورتحال یہ پاکستانی فوج ہی ہے جو ہر وقت ہر جگہ سب سے پہلے موجود ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی کہتے ہیں فوج بری ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کے دکھ میں دبلے ہونے والے لوگ بہت زور و شور سے کہہ رہے ہیں کہ
JF-17
بیچنے کی بجاۓ اسی سے میانمار پر حملہ کردینا چاہۓ ۔ ان دوستوں کے لیۓ عرض ہے کہ اگر پاکستان کے پاس امریکہ کا بنایا ہوا جدید ترین
5th generation F-35
بھی ہو تب بھی آپ میانمار پر حملہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ پاکستان اور میانمار کے درمیان فاصلہ تقریبآ 2800 کلومیٹر کا فاصلہ اور
F-35
جیسے طیارے کی حد 2220 کلومیٹر ہے یعنی کہ درمیان میں اسے بھی دوبارہ بھرنے کی ضرورت پڑےگی۔

اب زرہ سا حقائق بھی دیکھ لیں۔ پاکستان اور میانمار کے درمیان تقریبآ 2800 کلو میٹر کا فاصلہ ہے ۔اگر پاکستان میانمار پر حملہ کرنا چاہے تو اسے انڈیا اور بنگلہ دیش کی فضائی حدود استیمال کرتے ہوئے میانمار پر حملہ کرناپڑے گا اور ظاہر سی بات ہے انڈیا اور بنگلہ دیش اس بات کے کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ پاکستان میانمار پر حملہ کرنے کے لیۓ ان کی فضائی حدود استمال کریں۔

 ایک دوسرا راستہ یہ بھی ہے کہ میانمار پر حملہ کرنے کےلیۓ پاکستان ائیر فورس چین کے راستے میانمار جا کر حملہ کرے۔ لیکن چین میانمار   کے ماملے میں پاکستان کی مخالفت کرے گا کیونکہ میانمار میں چینی نسل “کوکن” کے لوگ اقلیت میں موجود ہیں۔ جن کی تعداد سولہ لاکھ کے قریب ہے۔ چینی حکومت یقینآ ان کی حفاظت کرے گی۔

اب کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ پاکستان نیوی سمندر کے راستے جا کر میانمار پر حملہ کرسکتی ہے۔ اس صورت میں بھی یمیں انڈین نیوی اور بنگلہ دیش نیوی کا سامنا کرنا پڑا گا۔ اور اسے طرح ایک جنگی کیفیت چھڑ ستکی یے اور یہ صرف میانمار سے نہیں بلکہ 3 ملکوں سے۔ پاکستان پہلے کئی مسائل سے گھرا ہوا ہے۔ ایسے وقت میں یہ کوئی عقل مندی نہیں ہوگی۔ پاکستان آرمی پہلے مشرقی اورمغربی دشمنوں کے خلاف پاکستان کا دفاع کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی ملک کے اندر چلنے والی ان تحریکوں اور دہشت گردوں سے لڑنے میں مصروف ہے جو چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ماحول قائم رہے۔پاکستان کی مصلح افواج نہ صرف ملک کا دفاع ہی نہیں کر رہی بلکہ طوفانی بارشوں میں، زلزلوں میں عام شہریوں کو بچانا بھی پاکستان آرمی کا کام ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی سویلیان گورنمنٹ کو چاہئے کہ مالی اور طبعی بنیادوں پر روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی کرے۔ پاکستان آرمی کو وہاں نہیں جانا چاہئے یہ ممکن نہیں ہے۔